دوسروں کے والدین کو برا بھلا کہنا

عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍورَضِی اللہُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ یلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَیهِ قِیلَ، ‏‏‏‏‏‏یا رَسُولَ اللہِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَیفَ یلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَیهِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ یسُبُّ الرَّجُلُ أَبَا الرَّجُلِ فَیسُبُّ أَبَاهُ وَیسُبُّ أُمَّهُ.

 (صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث نمبر 5973)

          عبداللہ بن عمر وؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا: یقیناً سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت بھیجے۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! کوئی شخص اپنے ہی والدین پر کیسے لعنت بھیجے گا؟ نبی کریم نے فرمایا کہ وہ شخص دوسرے کے باپ کو برا بھلا کہے گا تو دوسرا بھی اس کے باپ کو اور اس کی ماں کو برا بھلا کہے گا۔

تازہ ترین

متعلقہ پوسٹس

الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ

اور جو موجودہ وقت کے تقاضے ہیں اس کے مطابق خلیفۂ وقت رہنمائی کرتا ہے۔ اس لیے وہ دور جب ختم ہو جائے اور جب نئے خلیفہ کا انتخاب ہو جائےاور نئے خلیفہ کو اللہ تعالیٰ یہ اعزاز عطا فرما دے تو پھر اس کے مطابق ہی چلنا ہوگا جس طرح وہ رہنمائی کرے

ہے کتنا وسیع دیکھو تو دامانِ خلافت

اپنے اندر خاص تبدیلیاں پیدا کریں۔ پہلے سے بڑھ کر ایمان و اخلاص میں ترقی کریں…اب احمدیت کا علمبردار وہی ہے جو نیک اعمال کرنے والا ہے اور خلافت سے چمٹا رہنے والا ہے

نور کا راز

ایک دن کی بات ہے، 12 سالہ احمد اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے اپنے ابو سے ایک دن پہلے سوال کیا تھا: