الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ

اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہی اپنے وعدوں کے مطابق بنی نوع انسان کی دینی و دنیاوی ترقی کے سامان انسان کی پیدائش سے پہلے بھی اور بعد بھی مہیا فرمائے ہیں۔ جہاں انسان کی پیدائش سےقبل بقاء انسانی کے لئے ہوا ، پانی اور روشنی جیسی ضروری چیزیں پیدا کیں وہاں انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی اُس کی روحانی ترقی کے لئے اپنے رسول بھیجے ۔ خدا تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں نیکی کا تُخم رکھا اور اُسے بطور اشرف المخلوقات باقی چرند و پرند پر ترجیح دی۔ انسان نے اپنی پیدائش کے ساتھ زندگی جینے کے اسلوب سیکھے ، خود کو مہذب بنانے کے لئے باوجود آزاد(Free Will)  ہونے کے قانون بنائے جس کے تحت انسان ایک پُر سکون زندگی گزار سکے۔ جہاںایک مُجرم کے لئے سزائیں تجویز کیں وہاں ترقی اور نیک کام والوں کے لئے انعامات تجویز کئے۔ بالکل اُسی طرح جس طرح خُدا تعالیٰ نے بُرے کام کرنے والوں کے لئے سزا تجویز کی اور نیک شخص کے لئے انعامات کے وعدہ دیئے۔ خدا تعالیٰ اپنے انہیں انعامات میں سے ایک انعام سورۃ النور کی آیت 56 میں یہ تجویز فرماتا ہے کہ ’’ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے لئے اُن کے دین کو، جو اُس نے اُن کے لئے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور اُنہیں امن کی حالت میں بدل دے گا‘‘۔ اس وعدہ کے تحت اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے انسان کے ساتھ وفا کرتا آیا ہے۔ ہر دور میں جب کبھی انسان گِرنے لگا اللہ تعالیٰ اپنی سُنت کے مطابق رسول ،نبی اور خلیفہ بھیجتا رہااور ہر وہ انسان اور قوم جو اُس کے بھیجے ہوئے فرستادہ سے چمٹی رہی ،اُس کی آواز پر کان دھرتی رہی اور اُس کی ڈھال کے پیچھے رہی وہ دین و دنیا دونوں میدانوں میں کامیاب و کامران رہی۔  

 خدا کے وعدوں پر تُم یقیں رکھنا
خلیفہ کی ڈھال میں اپنی بقا رکھنا

پس آج بھی 21 ویں صدی میں خدا تعالیٰ کا خلیفہ اس کے وعدہ کے مطابق موجود ہے جو دنیا کے لئے امید کی کِرن ہے ۔ اس جدید دور میں جب ہر قوم ایک دوسرے پر چڑھ آ رہی ہے ،  ہر مُلک دوسرے مُلک کو ایٹمی ہتھیاروں سے زیر و زبر کرنے تیار ہے اور کوئی بُرائی ایسی باقی نہیں جسکا وجود میں آنا باقی نظر آتا ہو، یہ خُدا تعالیٰ کا خلیفہ ہی ہے جس کے ساتھ چِمٹ کر انسان کامیاب و کامران نِکل سکتا ہے۔ 

اس خلیفہ کے ساتھ لگنے ،چمٹنے اور اس کی باتوں پر کان دھرنے کی ضرورت ہے۔ خدا تعالیٰ کے خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے ایک خطاب میں فرماتے ہیں:

’’خدام الاحمدیہ کا ایک کام، بہت بڑا کام خلافتِ احمدیہ کی حفاظت بھی ہے اور اس کے لیے وہ عہد بھی کرتے ہیں۔ اور حفاظت یہ نہیں ہے کہ صرف عمومی کی ڈیوٹی دے دی یا حفاظتِ خاص کی ڈیوٹی دے دی۔ یہ کام تو اور دوسرے بھی کر سکتے ہیں۔ اصل حفاظت یہ ہے کہ خلیفۂ وقت کے الفاظ کو پھیلایا جائے۔ ان پر عمل کیا جائے۔ ان پر عمل کروایا جائے۔ اور نئی نسل کو سنبھالا جائے۔ صرف یہ دعویٰ کر لینا کافی نہیں کہ ہم دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے۔ یہ لڑائی کا تو مسئلہ نہیں ہے۔ آج کل کی لڑائی، آج کل کا جہاد یہ ہے کہ باتوں پر عمل کیا جائے۔ اور یہی وہ اصل کام ہے جو خدام الاحمدیہ نے کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جماعتِ احمدیہ کے خلفاء میں، اور آئندہ بھی ان شاء اللہ خلفاء آتے رہیں گے، ہر ایک کا ایک دور رکھا ہوا ہے۔ اور ہر دور کے مطابق خود رہنمائی فرماتا رہتا ہے۔ اور جو موجودہ وقت کے تقاضے ہیں اس کے مطابق خلیفۂ وقت رہنمائی کرتا ہے۔ اس لیے وہ دور جب ختم ہو جائے اور جب نئے خلیفہ کا انتخاب ہو جائےاور نئے خلیفہ کو اللہ تعالیٰ یہ اعزاز عطا فرما دے تو پھر اس کے مطابق ہی چلنا ہوگا جس طرح وہ رہنمائی کرے نہ کہ پرانی کتابیں شائع کرنے سے۔ ٹھیک ہے بعض تاریخی چیزیں بھی ان میں مل جاتی ہیں۔ بعض علمی باتیں بھی مل جاتی ہیں۔ وہ شائع ہونی چاہئیں۔ لیکن عمل کے لیے ضروری ہے کہ خلیفۂ وقت کی بات کو سنو۔ اس پر عمل کرو۔ نہ یہ کہ اس سے منشاء یہ تھا یا وہ تھا۔ بعض لوگ آپس میں جب بات کر رہے ہوں تو عہدیداروں کی طرف سے یہ ہوتا ہے کہ نہیں خلیفۂ وقت نے جو یہ الفاظ کہے تو ان کا منشاء یہ تھا۔ اگر منشاء یہ تھا یا وضاحت کی ضرورت ہے تو خلیفۂ وقت موجود ہے اس سے پوچھو۔ اور اگر سابق خلفاء کی باتیں تھیں اور ان کا منشاء تھا تو اس کا فیصلہ کرنا بھی خلیفۂ وقت کاکام ہے کہ اُس بات کی کیا تشریح ہوگی یا حضرت مسیح موعودؑ کے حوالے ہیں یا ان کی باتیں ہیں تو اس کی کیا وضاحت ہوگی۔ یہ کام ہر عہدیدار کا نہیں ہے۔ یہ باتیں کہ اس کی تشریح کیا ہونی ہے یہ فیصلہ کرنا خلیفۂ وقت کا کام ہے۔ اس لیے خدام الاحمدیہ ہمیشہ یاد رکھے، ہر عہدیدار ہمیشہ یاد رکھے کہ آپ نے خلیفۂ وقت کے الفاظ کو دیکھنا ہے، اس کی باتوں کو سننا ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ اور پرانے منشاء اور پرانی باتیں کھنگالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
اللہ تعالیٰ جب تک بہتر سمجھتا ہے ایک خلیفہ کو زندگی دیتا ہے اور اس کے کام کو جاری رکھتا ہے۔ اور جب وہ بہتر سمجھتا ہے تو ایک دور ختم ہو جاتا ہےاور اگلا دور شروع ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس بات کو، اس حقیقت کو سمجھنے کی ہر ایک عہدیدار کو کوشش کرنی چاہیے۔ اور خدام الاحمدیہ کا خاص طور پر یہ کام ہے کہ جب خلافت کے نظام کی حفاظت کی ذمہ داری ان پر ہے تو حفاظت اسی طرح ہے کہ اپنے نوجوانوں میں، اپنے بچوں میں یہ روح پیدا کریں کہ تم نے خلیفۂ وقت کی باتوں کو سننا ہے اور ان پر عمل کرنا ہے۔ اور یہی حقیقت ہے جو خلافت کی حفاظت کا اہل بناتی ہے ورنہ اس کے علاوہ سب باتیں ہی ہیں۔‘‘

(خطاب حضور انور25۔اکتوبر 2019ء بمقام مہدی آباد، جرمنی)

 اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق ہمارے درمیان خلیفہ وقت موجود ہے۔اگر ہم اپنی دینی و دنیاوی زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں خلیفہ وقت کی اِن باتوں پر دِل و جان سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

تازہ ترین

متعلقہ پوسٹس

الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ

اور جو موجودہ وقت کے تقاضے ہیں اس کے مطابق خلیفۂ وقت رہنمائی کرتا ہے۔ اس لیے وہ دور جب ختم ہو جائے اور جب نئے خلیفہ کا انتخاب ہو جائےاور نئے خلیفہ کو اللہ تعالیٰ یہ اعزاز عطا فرما دے تو پھر اس کے مطابق ہی چلنا ہوگا جس طرح وہ رہنمائی کرے

ہے کتنا وسیع دیکھو تو دامانِ خلافت

اپنے اندر خاص تبدیلیاں پیدا کریں۔ پہلے سے بڑھ کر ایمان و اخلاص میں ترقی کریں…اب احمدیت کا علمبردار وہی ہے جو نیک اعمال کرنے والا ہے اور خلافت سے چمٹا رہنے والا ہے

نور کا راز

ایک دن کی بات ہے، 12 سالہ احمد اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے اپنے ابو سے ایک دن پہلے سوال کیا تھا:

سائنس کا سفر یونان سے بغداد تک

لفظ ’’ سائنس‘‘لاطینی زبان سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی ’’ علم‘‘کے ہیں۔ سائنس دراصل کائنات اور فطرت میں موجود قوانین وحقائق کے دریافت