
ہے کتنا وسیع دیکھو تو دامانِ خلافت
اپنے اندر خاص تبدیلیاں پیدا کریں۔ پہلے سے بڑھ کر ایمان و اخلاص میں ترقی کریں…اب احمدیت کا علمبردار وہی ہے جو نیک اعمال کرنے والا ہے اور خلافت سے چمٹا رہنے والا ہے

سائنس کا سفر یونان سے بغداد تک
لفظ ’’ سائنس‘‘لاطینی زبان سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی ’’ علم‘‘کے ہیں۔ سائنس دراصل کائنات اور فطرت میں موجود قوانین وحقائق کے دریافت کرنے کا نام ہے نہ کہ کسی خودساختہ نظریے یا خیال کا۔ چونکہ یہ کائنات خدا تعالیٰ کی تخلیق ہے اس لئے فطرت کی ہر حقیقت جو

مصنوعی ذہانت: انسانیت کے لئے چیلنج یا سہولت؟
مصنوعی ذہانت (AI) آج کے دور میں ایک نئی حقیقت ہے جس نے ہماری زندگی، کام اور معاشرت کو بدل دیا ہے۔ ہم اب ایک ایسے دور میں جا رہے ہیں جسے “مصنوعی عام ذہانت” کہا جاتا ہے۔ یہ ایسی مصنوعی ذہانت ہے جو انسانی دماغ کی طرح مختلف اور پیچیدہ کام

اسلام میں عورتوں کے حقوق
رکھ پیش نظر وہ وقت بہن جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیواریں روتی تھیں جب دنیا میں تو آتی تھی گویا تو کنکر پتھر تھی احساس نہ تھا جذبات نہ تھے توہین تو اپنی یاد تو کر ! ترکہ میں بانٹی جاتی تھی اسلام پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے

غریب، یتیم اور مظلوم کے حقوق: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف عبادات کی تعلیم دیتا ہے بلکہ ایک منصفانہ، پُرامن اور ہمدرد معاشرہ قائم کرنے کی بھی تاکید کرتا ہے۔ قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ کی تعلیمات میں غریب، یتیم، مظلوم، اور کمزور طبقات کے حقوق پر بہت زور دیا گیا ہے۔ ان

غير مسلموں کے حقوق: اسلامی رياست ميں اقلتيوں کا تحفظ
’’ اسلام ‘‘امن و سلامتی کا عظیم عَلم بردار ہے، اس کی نگاہ میں بنی نوع انسان کاہر فرد، بلاتفریقِ مذہب و ملّت احترام کا مستحق ہے۔ اسلام ان تمام حقوق میں،جو کسی مذہبی فریضہ اور عبادت سے متعلق نہ ہوں ان کا تعلق ریاست کے نظم وضبط اور شہریوں کے بنیادی
تاذہ ترین
مضامین

ہے کتنا وسیع دیکھو تو دامانِ خلافت
اپنے اندر خاص تبدیلیاں پیدا کریں۔ پہلے سے بڑھ کر ایمان و اخلاص میں ترقی کریں…اب احمدیت کا علمبردار وہی ہے جو نیک اعمال کرنے والا ہے اور خلافت سے چمٹا رہنے والا ہے

سائنس کا سفر یونان سے بغداد تک
لفظ ’’ سائنس‘‘لاطینی زبان سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی ’’ علم‘‘کے ہیں۔ سائنس دراصل کائنات

مصنوعی ذہانت: انسانیت کے لئے چیلنج یا سہولت؟
مصنوعی ذہانت (AI) آج کے دور میں ایک نئی حقیقت ہے جس نے ہماری زندگی، کام اور

اسلام میں عورتوں کے حقوق
رکھ پیش نظر وہ وقت بہن جب زندہ گاڑی جاتی تھی گھر کی دیواریں روتی تھیں جب
قرآن
ہر چیز کے خزانے اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھے ہیں
وَاِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَاۗىِٕنُہٗ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ (سورۃ الحجر آیت نمبر 22) ترجمہ: اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے (غیر

والدین سے احسان کا سلوک کرو
وَقَضٰى رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاۭ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْ کِلٰـہُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا
اور جب (مختلف) نفوس جمع کئے جائیں گے
وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ (سورۃ التکویر آیت نمبر: 8) ترجمہ: اور جب (مختلف)نفوس جمع کئے جائيں گے ۔ اس آیت کی تفسیر میں سیدنا حضرت
انفاخ النبی صلی اللہ علیہ وسلم
عالم کا مقام
عَنْ كَثِیرِ بْنِ قَیسٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِی الدَّرْدَاءِ فِی مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: یا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِنِّی جِئْتُكَ مِنْ مَدِینَةِ الرَّسُولِ صَلَّى
یتیم کی پرورش کا انعام
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنِی عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِی صَلَّى اللہُ
دوسروں کے والدین کو برا بھلا کہنا
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍورَضِی اللہُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ یلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَیهِ قِیلَ، یا
کلام الامام المہدی علیہ السلام
کوئی نئی تحقیقات یا علمی ترقی نہیں جو قرآن شریف کو مغلوب کر سکے
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ہم دیکھتے ہیں کہ آجکل بہت سے ایسے بھی خیالات والے لوگ موجود ہیں کہ انکی
سب عزتوں سے بڑھ کر رسول کریم ﷺ کی عزت ہے
سب عزتوں سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے۔ جس کا کل اسلامی دُنیا پر اثر ہے۔ آپؐ ہی کی
کلام الامام المھدی ؑ
حضرت اقدس مسيح موعود عليہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہيں کہ: اىک شخص اپنى منکوحہ سے مہر بخشوانا چاہتا تھا مگر وہ عورت کہتى تھى تو