کلام الامام المہدی علیہ السلام – اکتوبر ۲۰۲۱

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں۔ ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہوکر عورت سے جنگ کریں۔ ہم کو خدا نے مرد بنایا ہے اور درحقیقت یہ ہم پر اتمامِ نعمت ہے۔ اس کا شکر یہ ہے کہ ہم عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں۔’’ایک دفعہ ایک دوست کی دُرشت مزاجی اور بدزبانی کاذکر ہوا اور شکایت ہوئی کہ وہ اپنی بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے۔ حضور علیہ السلام اس بات سے بہت کبیدہ خاطر ہوئے‘‘ اور فرمایا:’’ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہئے۔‘‘حضور علیہ السلام بہت دیر تک معاشرت نسواں کے بارے میں گفتگو فرماتے رہے اور آخر پر فرمایا:’’میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازہ کَسا تھا اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگِ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے اور بایں ہمہ کوئی دل آزار اور دُرشت کلمہ منہ سے نہیں نکلا تھا۔ اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع اورخضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الٰہی کا نتیجہ ہے۔‘‘

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                      (ملفوظات جلد اول صفحہ307 ایڈیشن1988)

تازہ ترین

متعلقہ پوسٹس

الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ

اور جو موجودہ وقت کے تقاضے ہیں اس کے مطابق خلیفۂ وقت رہنمائی کرتا ہے۔ اس لیے وہ دور جب ختم ہو جائے اور جب نئے خلیفہ کا انتخاب ہو جائےاور نئے خلیفہ کو اللہ تعالیٰ یہ اعزاز عطا فرما دے تو پھر اس کے مطابق ہی چلنا ہوگا جس طرح وہ رہنمائی کرے

ہے کتنا وسیع دیکھو تو دامانِ خلافت

اپنے اندر خاص تبدیلیاں پیدا کریں۔ پہلے سے بڑھ کر ایمان و اخلاص میں ترقی کریں…اب احمدیت کا علمبردار وہی ہے جو نیک اعمال کرنے والا ہے اور خلافت سے چمٹا رہنے والا ہے

نور کا راز

ایک دن کی بات ہے، 12 سالہ احمد اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے اپنے ابو سے ایک دن پہلے سوال کیا تھا:

سائنس کا سفر یونان سے بغداد تک

لفظ ’’ سائنس‘‘لاطینی زبان سے ماخوذ ہے، جس کے لغوی معنی ’’ علم‘‘کے ہیں۔ سائنس دراصل کائنات اور فطرت میں موجود قوانین وحقائق کے دریافت