
مجلس خدام الاحمدیہ بھارت
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌۭ يَدْعُونَ إِلَى ٱلْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ ۚ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
(آل عمران : ۱۰۵)

مجلس خدام الاحمدیہ بھارت
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌۭ يَدْعُونَ إِلَى ٱلْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ ۚ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
(آل عمران : ۱۰۵)
ضلع شوپیان کشمیر کے سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ و اطفال الاحمدیہ کا شاندار انعقاد
ضلع کولگام زون بی و اننت ناگ کشمیر کے سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ و اطفال الاحمدیہ کا شاندار انعقاد
سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ و اطفال الاحمدیہ بنگلورکا شاندار انعقاد
سائنس کا سفر یونان سے بغداد تک
مصنوعی ذہانت: انسانیت کے لئے چیلنج یا سہولت؟
اسلام میں عورتوں کے حقوق
غریب، یتیم اور مظلوم کے حقوق: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
غير مسلموں کے حقوق: اسلامی رياست ميں اقلتيوں کا تحفظ
ميدانِ تبليغ ميں تائيد و نصرت کےايمان افروز ذاتي واقعات
تازہ ترین
اطلاعات و اعلانات – فروری 2022
127واں جلسہ سالانہ قادیان 24۔23اور25 دسمبر 2022ء
سالانہ اجتماع مجلس خدام الاحمدیہ بھارت 2022 ء کی تاریخوں کا اعلان
مضامین
قرآن کریم
والدین سے احسان کا سلوک کرو
وَقَضٰى رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاۭ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْ کِلٰـہُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا
(بنی اسرائیل آیت 24)
جب جاہلوں سے مخاطب ہو تو ان کو ’’سلام‘‘ کہو
وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا
(سورۃ الفرقان آیت :64)
اللہ ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا
وَعَدَ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ
(سورۃ نور آیت نمبر: 56)
میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں
وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِی عَـنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِیبٌ ۭ اُجِیبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلْیسْتَجِیبُوْا لِی وَلْیؤْمِنُوْا بِی لَعَلَّہُمْ یرْشُدُوْنَ
(سورۃ البقرۃ:187)
والدین سے احسان کا سلوک کرو
وَقَضٰى رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاۭ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْ کِلٰـہُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا
(بنی اسرائیل آیت 24)
جب جاہلوں سے مخاطب ہو تو ان کو ’’سلام‘‘ کہو
وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا
(سورۃ الفرقان آیت :64)
اللہ ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا
وَعَدَ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ
(سورۃ نور آیت نمبر: 56)
میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں
وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِی عَـنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِیبٌ ۭ اُجِیبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلْیسْتَجِیبُوْا لِی وَلْیؤْمِنُوْا بِی لَعَلَّہُمْ یرْشُدُوْنَ
(سورۃ البقرۃ:187)
قرآن کریم
والدین سے احسان کا سلوک کرو
وَقَضٰى رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاۭ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْ کِلٰـہُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا
(بنی اسرائیل آیت 24)
جب جاہلوں سے مخاطب ہو تو ان کو ’’سلام‘‘ کہو
وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا
(سورۃ الفرقان آیت :64)
اللہ ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا
وَعَدَ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ
(سورۃ نور آیت نمبر: 56)
میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں
وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِی عَـنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِیبٌ ۭ اُجِیبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلْیسْتَجِیبُوْا لِی وَلْیؤْمِنُوْا بِی لَعَلَّہُمْ یرْشُدُوْنَ
(سورۃ البقرۃ:187)
انفاخ النبی ﷺ
عالم کا مقام
عَنْ كَثِیرِ بْنِ قَیسٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِی الدَّرْدَاءِ فِی مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: یا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِنِّی جِئْتُكَ مِنْ مَدِینَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ لِحَدِیثٍ بَلَغَنِی أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ، مَا جِئْتُ لِحَاجَةٍ، قَالَ: فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللہُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ، یقُولُ: مَنْ سَلَكَ طَرِیقًا یطْلُبُ فِیهِ عِلْمًا سَلَكَ اللہُ بِهِ طَرِیقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ لَیسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِی السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ وَالْحِیتَانُ فِی جَوْفِ الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَیلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِیاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِیاءَ لَمْ یوَرِّثُوا دِینَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ.
(سنن ابو دائود حدیث نمبر 3641)
یتیم کی پرورش کا انعام
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنِی عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِی صَلَّى اللہُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنَا وَكَافِلُ الْیتِیمِ فِی الْجَنَّةِ هَكَذَاوَقَالَ: بِإِصْبَعَیهِ السَّبابةِ وَالْوُسْطَى.
(صحیح بخاری کتاب الادب حدیث نمبر 6005)
دوسروں کے والدین کو برا بھلا کہنا
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍورَضِی اللہُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ یلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَیهِ قِیلَ، یا رَسُولَ اللہِ، وَكَیفَ یلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَیهِ؟ قَالَ: یسُبُّ الرَّجُلُ أَبَا الرَّجُلِ فَیسُبُّ أَبَاهُ وَیسُبُّ أُمَّهُ.
(صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث نمبر 5973)
انفاخ النبی ﷺ
عالم کا مقام
عَنْ كَثِیرِ بْنِ قَیسٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِی الدَّرْدَاءِ فِی مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: یا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِنِّی جِئْتُكَ مِنْ مَدِینَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ لِحَدِیثٍ بَلَغَنِی أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ، مَا جِئْتُ لِحَاجَةٍ، قَالَ: فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللہُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ، یقُولُ: مَنْ سَلَكَ طَرِیقًا یطْلُبُ فِیهِ عِلْمًا سَلَكَ اللہُ بِهِ طَرِیقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ الْعَالِمَ لَیسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِی السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِی الْأَرْضِ وَالْحِیتَانُ فِی جَوْفِ الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ لَیلَةَ الْبَدْرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، وَإِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِیاءِ، وَإِنَّ الْأَنْبِیاءَ لَمْ یوَرِّثُوا دِینَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَرَّثُوا الْعِلْمَ فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ.
(سنن ابو دائود حدیث نمبر 3641)
یتیم کی پرورش کا انعام
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنِی عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِی صَلَّى اللہُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنَا وَكَافِلُ الْیتِیمِ فِی الْجَنَّةِ هَكَذَاوَقَالَ: بِإِصْبَعَیهِ السَّبابةِ وَالْوُسْطَى.
(صحیح بخاری کتاب الادب حدیث نمبر 6005)
دوسروں کے والدین کو برا بھلا کہنا
عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍورَضِی اللہُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ أَنْ یلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَیهِ قِیلَ، یا رَسُولَ اللہِ، وَكَیفَ یلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَیهِ؟ قَالَ: یسُبُّ الرَّجُلُ أَبَا الرَّجُلِ فَیسُبُّ أَبَاهُ وَیسُبُّ أُمَّهُ.
(صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث نمبر 5973)
کلام الامام المہدی علیہ السلام
کلام الامام المہدی علیہ السلام – دسمبر ۲۰۲۱
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی
سب عزتوں سے بڑھ کر رسول کریم ﷺ کی عزت ہے
سب عزتوں سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے۔ جس کا کل اسلامی دُنیا پر اثر ہے۔ آپؐ ہی کی
کوئی نئی تحقیقات یا علمی ترقی نہیں جو قرآن شریف کو مغلوب کر سکے
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ہم دیکھتے ہیں کہ آجکل بہت سے ایسے بھی خیالات والے لوگ موجود ہیں کہ انکی
کلام الامام المہدی علیہ السلام
کلام الامام المہدی علیہ السلام – دسمبر ۲۰۲۱
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی
سب عزتوں سے بڑھ کر رسول کریم ﷺ کی عزت ہے
سب عزتوں سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے۔ جس کا کل اسلامی دُنیا پر اثر ہے۔ آپؐ ہی کی
کوئی نئی تحقیقات یا علمی ترقی نہیں جو قرآن شریف کو مغلوب کر سکے
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ہم دیکھتے ہیں کہ آجکل بہت سے ایسے بھی خیالات والے لوگ موجود ہیں
کوئی نئی تحقیقات یا علمی ترقی نہیں جو قرآن شریف کو مغلوب کر سکے
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : ’’ہم دیکھتے ہیں کہ آجکل بہت سے ایسے بھی خیالات والے لوگ موجود ہیں کہ انکی
کلام الامام المہدی علیہ السلام
امام وقت کی آواز
امام وقت کی آواز – دسمبر ۲۰۲۱
پس ایک داعی الی اللہ کے لئے یہ ضروری ہے اور صرف یہ داعی الی اللہ کو یاد رکھنا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ ہر احمدی چاہے وہ فعال ہو کر تبلیغ کرتا ہے یا نہیں اگر دنیا کے علم میں ہے کہ فلاں شخص احمدی ہے، اگر ماحول اور معاشرہ جانتا ہے کہ فلاں شخص احمدی ہے تو وہ احمدی یاد رکھے کہ اس کے ساتھ احمدی کا لفظ لگتا ہے، اگر وہ تبلیغ نہیں بھی کر رہا تو تب بھی اس کا احمدی ہونا اسے خاموش داعی الی اللہ بنا دیتا ہے۔
امام وقت کی آواز – اکتوبر ۲۰۲۱
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں:’’مرد کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ مضبوط اور طاقتور بنایا ہے اگر مرد خاموش ہوجائے تو شاید اسّی فیصد سے زائد جھگڑے وہیں ختم ہوجائیں۔ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی ؐ نے اس بارہ میں ہمیں کیا اسوہ دکھایا۔ روایت ہے کہ ایک دن حضرت عائشہ ؓ گھر میں آنحضرت ؐ سے کچھ تیز تیز بول رہی تھیں کہ اوپر سے ان کے ابا، حضرت ابو بکر ؓ تشریف لائے۔
امام وقت کی آواز
امام وقت کی آواز – دسمبر ۲۰۲۱
پس ایک داعی الی اللہ کے لئے یہ ضروری ہے اور صرف یہ داعی الی اللہ کو یاد رکھنا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ ہر احمدی چاہے وہ فعال ہو کر تبلیغ کرتا ہے یا نہیں اگر دنیا کے علم میں ہے کہ فلاں شخص احمدی ہے، اگر ماحول اور معاشرہ جانتا ہے کہ فلاں شخص احمدی ہے تو وہ احمدی یاد رکھے کہ اس کے ساتھ احمدی کا لفظ لگتا ہے، اگر وہ تبلیغ نہیں بھی کر رہا تو تب بھی اس کا احمدی ہونا اسے خاموش داعی الی اللہ بنا دیتا ہے۔
امام وقت کی آواز – اکتوبر ۲۰۲۱
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں:’’مرد کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ مضبوط اور طاقتور بنایا ہے اگر مرد خاموش ہوجائے تو شاید اسّی فیصد سے زائد جھگڑے وہیں ختم ہوجائیں۔ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی ؐ نے اس بارہ میں ہمیں کیا اسوہ دکھایا۔ روایت ہے کہ ایک دن حضرت عائشہ ؓ گھر میں آنحضرت ؐ سے کچھ تیز تیز بول رہی تھیں کہ اوپر سے ان کے ابا، حضرت ابو بکر ؓ تشریف لائے۔
















