نیا ز احمد نائک
ہمارے پیارےامام نے گزشتہ چند خطبات آنحضورﷺ کی عاجزی اور آپ کے غلام صادق حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی عاجزی وانکساری کے بارے میں ارشاد فرمائے ۔آنحضوﷺ ہمارے لئے زندگی کے ہر شعبے میں بہترین قابل تقلید او ر مشعل راہ ہیں اور آپ ﷺ کے عاجزی اور انکساری کےنمونوں کو عصر حاضر میں آپ کے غلام صادق حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعودومہدی معہود نے ازسر نو زندہ کیا اوریہی دو نمونے ہیں جو ہم خدام احمدیت کے لئے قابل تقلید ہیں ۔خدام الاحمدیہ کےبانی حضرت مصلح موعودؓ کیا خوب فرماتے ہیں کہ
پیارے خدام بھائیو! آجکل ہم دنیا میں جس فساد کو مشاہدہ کر رہے ہیں اس کی ایک بنیادی وجہ تکبر اور نخوت ہے ۔بڑی اور طاقتور اقوام چھوٹی اور کمزور اقوام کا استحصال اس لئے کر رہی ہیں کیونکہ وہ طاقت کے نشے میں چور ہیں ۔اپنے سے کمتر اقوام کے لوگوں کو Dehumnize کیا جارہاہے۔جانوروں سے تشبیہ دی جارہی ہے ۔اور اپنے آپ کو اعلیٰ قسم کی نسل تصور کیا جارہاہے۔یہی وہ وقت ہے جب سب سے زیادہ ہمارے پیارے آقا حضر ت اقدس محمد مصطفے ﷺ کے اسوہ کو اپنانےکی ضرورت ہے ۔جنہوں نے تعلیم دی کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر کسی نوع کی فضیلت نہیں ہے اور کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کسی رنگ کی برتری نہیں ہے۔آپﷺ بادشاہ بھی بنے لیکن آپ نے اپنے قول وعمل سے احترام انسانیت کا درس دیا ۔بادشاہت او ر مال و دولت کے باوجود میں آپ میں کبر و غرورر نام کو بھی نہ تھا بلکہ فرماتے تھے کہ میں اس عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت کھایاکرتی تھی۔
دور حاضر میں آپﷺ کے غلام صادق حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی ؑ مبعوث ہوئے جنہوں نے عاجزی و انکساری کے نمونوں کو ازسرنو زندہ کیا ۔آپ کی عاجزی و انکساری کو عرش کے خدانے سراہتے ہوئے ان الفاظ میں داد دی کہ
’’تیری عاجزانہ راہیں اسے پسند آئیں ‘‘۔یہی وہ الہام ہے جو کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ؒ نے احمدی نوجوانوں کے لئے بطورماٹو رکھا ۔اسی مطمح نظر کو سامنے رکھتے ہوئے احمدی نوجوانوں نے اپنی زندگیاں گزارنی ہیں ۔یہی وہ نسخئہ کیمیاہے جو اس دور میں شیطان کو مات دے سکتاہے ۔تکبر شیطان سے آتاہے جو تکبر ظاہر کرتاہے وہ شیطان کا دوست ہوتاہے ۔تکبر کا اظہار چھوٹی چھوٹی چیزوں میں ہوتاہے ۔حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ سادہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ تمام تکلّفات جوکہ آج کل یورپ نے لوازمِ زندگی بنا رکھے ہیں اُن سے آپؑ کی مجلس پاک تھی،آپ ؑ رسم و عادت کے ہم پابند نہیں تھے کھانے پینے اور نشست و برخاست میں آپ سادہ تھے ۔
پیارے خدام بھائیو! آجکل نوجوان مغربی ذہنیت اور طرز زندگی کو اپناتے ہوئے کئی طرح کی فضول رسم وعادت کا شکار ہوگئے ہیں ۔اس طرح کی طرز زندگی سے انکا بہت سارا پیسہ اور وقت صرف ہوتاہے ۔نفاست اور صفائی ایمان کا حصہ ہے لیکن عورتوں کی طرح بناؤسنگھار کرنا یہ مردو ںکا کام نہیں ہے ۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ؛
یاد رکھنا کہ نزاکت ہے نصیب نسواں مرد وہ ہے جو جفاکش ہو گل اندام نہ ہو
پس خدام الاحمدیہ کے تمام اراکین کو اپنے تمام شعبہ ہائے زندگی میں سادگی اور عاجزی و انکساری اپنانے کی ضرورت ہے۔اب جبکہ دنیا میں recession اور Depression ہے ایسے میں خدام احمدیت کو اپنی طرز زندگی کو بہت سادہ بنانے کی ضرورت ہے اور دلی اطمینان اور سکون کے لئے اپنے خدا کی بارگاہ میں حاضری دینے کی ضرورت ہے۔خدا کی طرف لوٹنے میں ہی اصل اطمینان اور سکون قلب ہے ۔اللہ تعالیٰ تمام خدام کو اپنے آپ کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے جو اپنے نفس کو پہچان لے گا وہی اپنے رب کو پہچان لے گا ۔15؍ مئی 2026ءکے خطبہ جمعہ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت اقدس مسیح موعودؑکا مندرجہ ذیل اقتباس ارشاد فرمایا کہ
’’سچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لاشے محض سمجھے اور آستانہ الوہیت پر گر کر انکسار اور عجز کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے اور اس نور معرفت کو مانگے جو جذبات نفس کو جلا دیتا ہے اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کے لیے قوّت اور حرارت پیدا کرتا ہے‘‘ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 59-60ایڈیشن 2022ء)
بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں
شاید کہ اسی سے دخل ہو درالوصال میں
آتھر اس وقت بطور صدر مجلس خدام الاحمدیہ بھارت خدمت بجا لا رہے ہیں
