برف باری اور مہدیؑ کی یاد دہانی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

برف باری اور مہدیؑ کی یاد دہانی

کشمیر میں حالیہ برف باری کے بعد مختلف قسم کے تبصرے سامنے آئے۔ اکثر لوگوں نے موسمِ سرما کی اس پہلی برف باری پر خوشی اور مسرت کا اظہار کیا، تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں اور اس قدرتی حسن سے لطف اندوز ہوئے۔ خوشی کا اظہار اس لحاظ سے بھی کیا گیا کیونکہ وہاں  برفباری وقت کی ضرورت تھی ۔اسی طرح اس دور میں حضرت مسیح موعود اور مہدی معہودؑ کی بعثت بھی وقت کی ایک اہم ضرورت ہے ۔یہاں حضرت اقدس مرزاغلام احمد قادیانی ؑ کا ایک شعرصادق آتاہے کہ

کیوں عجب کرتے ہوگر میں آگیا ہوکر مسیح                       خودمسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ باد بہار

 برفباری کی وجہ سے ایک اہم پہلو ایسا ہے جس کی طرف ہماری توجہ منتقل ہونی چاہیے،  وہ ہے حضرت مہدیؑ کی آمد ۔یہ بات درست ہے کہ مسلمان اپنی موجودہ زبوں حالی میں عمومی طور پر ‘‘ سلام یا مہدی ’’کی  صدائیں بلند کرتے نظر آتے ہیں، مگر برف کی آمد کا تعلق حضرت مہدیؑ سے نہ صرف ظاہری بلکہ باطنی طور پر بھی جوڑا جا سکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت مہدیؑ کو سلام پہنچانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ

فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ ، فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِيُّ)ابن ماجہ)جب تم اس یعنی مہدی ؑ کو دیکھو تواسکی بیعت کرنا اگر برف پر گھٹنوں کے بل بھی جا نا پڑے تو اسکی بیعت کرنا کیونکہ وہ خدا کا خلیفہ مہدی ہے ۔اسی طرح حضور ﷺ نے مہدی ﷺ کو سلام پہنچانے کی بھی تاکید فرمائی ہے۔                                

برف باری جہاں خوشی کا باعث بنتی ہے، وہیں مشکلات بھی پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح امتِ مسلمہ آج جس طرح مختلف آزمائشوں اور مشکلات میں گھری ہوئی ہے، اس حالت میں حضرت مہدیؑ کی طرف سنجیدہ توجہ کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے، کیونکہ مسیح و مہدیؑ ہی اپنی روحانی توجہ اور برکات سے دنیا کو امن و امان عطا کرنے والے ہیں۔ برف کے پہاڑوں سے گھٹنوں کے بل جانے کی تعبیر یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حضرت مہدیؑ کی بیعت کے سفر میں تکالیف، آزمائشیں اور قربانیاں پیش آئیں گی، جنہیں صبر اور استقامت کے ساتھ برداشت کرنا ضروری ہوگا۔

حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے بھی برف اور بارش کے حوالے سے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر ایک عظیم پیشگوئی بیان فرمائی۔ چنانچہ 5 مئی 1906ء کو آپؑ کو الہام ہوا:

پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن’’

حضرت اقدسؑ نے اس پیشگوئی کو اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں اپنی صداقت کے پانچویں نشان کے طور پر بیان فرمایا۔ آپؑ وضاحت کرتے ہیں کہ ’’ثلج‘‘ عربی لفظ ہے، جس کے معنی ایسی برف کے ہیں جو آسمان سے نازل ہوتی ہے اور جس کے ساتھ سردی اور بارش بھی ہوتی ہے۔ یہ پیشگوئی نو ماہ قبل شائع ہوئی اور بعینہٖ اس طرح پوری ہوئی کہ موسمِ بہار میں کشمیر، یورپ اور امریکہ کے مختلف ممالک میں غیر معمولی حد تک برف باری ہوئی۔ خود کشمیر کے رہنے والے اس بات پر حیران تھے کہ بہار کے موسم میں تین گز تک برف کا جمع ہونا ایک خارقِ عادت امر تھا۔

پس چاہے موسمِ بہار میں برف پڑنے کی پیشگوئی ہویا آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق حضرت مہدیؑ کو برف کے پہاڑوں سے گزرکر سلام پہنچانے کی بات ہو   دونوں باتیں ہمیں اس امر کی دعوت دیتی ہیں کہ ہم سنجیدگی کے ساتھ اس روحانی پیغام پر غور کریں۔ جو لوگ حضرت اقدس مسیح موعودؑ کو نہیں مانتے، انہیں مسیح و مہدیؑ کو پہچاننے اور ماننے کی طرف توجہ کرنی چاہیے، اور جس طرح ہم برف میں سے اپنی ضروریات اور آسائشوں کے لیے راستے نکال لیتے ہیں، اسی طرح ہمیں حضرت رسول اکرم ﷺ کا سلام حضرت مہدیؑ تک پہنچانے کی عملی کوشش کرنی چاہیے۔

اور ہم جو حضرت مسیح موعودؑ کی جماعت میں شامل ہیں، ہماری ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہم اپنی زندگیاں شرائطِ بیعت کے مطابق گزاریں، جیسا کہ حال ہی میں ہمارے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس طرف خاص توجہ دلائی ہے۔ جس طرح برف اپنی سفیدی اور چمک کی وجہ سے نمایاں ہوتی ہے، اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ کے دلائل اور صداقت بھی روشن، واضح اور نیرہ ہیں۔ سفید مینار پر مسیح موعودؑ کے نزول کی ایک تعبیر یہ بھی ہے کہ آپؑ کے نشان اور دلائل بلند اور روشن ہوں گے، اور برف کی ظاہری سفیدی بھی لوگوں کو آپؑ کی صداقت کی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

ہر انسان کا مظاہر قدر ت کو مشاہدہ کرنے کا ایک نظریہ ہوتاہے ۔نظیر اکبر آبادی ایک مزاحیہ شاعر گزرے ہیں جنہوں نے مزاح کے رنگ میں بعض سماجی ایشوز کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے ۔وہ شاعرانہ رنگ میں بھوک سے نڈھال شخص کے سورج اور چاند کو دیکھنے کے نظریہ کے بارے میں کہتاہے

ہم تو نہ چاند سمجھے نہ سورج ہیں جانتے باباہمیں تویہ نظر آتی ہیں روٹیاں

حضرت اقدس مسیح موعودؑ عشق الٰہی کے بھوکے اور پیاسے تھے آپ کو چاند میں اپنے خداکاچہرہ اور اسکی جلوہ گری نظر آتی ہے ۔آپؑ کیا خوب فرماتے ہیں

چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بےکل ہوگیا            کیونکہ کچھ کچھ تھانشاں اس میں جمال یار کا

برف کشمیر اوردنیا کے دوسری علاقوں میں کم وبیش ہر سال گرتی ہے لیکن خوش قسمت وہ ہیں جن کا ذہن اس موسم میں مہدی آخرالزمان کی آمد کی طرف متوجہ ہو۔

کشمیر میں عموماً کہتے ہیں:(شین آیا تو دین آیا‘‘ (کشمیری زبان میں برف کو شین کہتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ برف باری کے دوران لوگ مساجد اور دینی امور کی طرف زیادہ متوجہ ہو جاتے ہیں۔ سردی اور برف کے سبب لوگ مساجد میں گرمی حاصل کرنے کے واسطے بنائے گئےحمام یا دیگر جگہوں پر جمع ہو کر دینی باتیں سیکھتے اور دینی موضوعات پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔

اسی تناظر میں ہمارے خدام کو چاہیے کہ پیارے آقا کے 12 دسمبر 2025ء کے بصیرت افروز خطبۂ جمعہ کی روشنی میں تبلیغ کے فریضے کی طرف بھرپور توجہ دیں۔ تبلیغ کوئی موسمی عمل نہیں بلکہ ایک سدابہار، مستقل اور مسلسل جدوجہد کا نام ہے، جس کے لیے توجہ، استقامت اور خلوص درکار ہوتا ہے۔ ہم سب خدامِ احمدیت کو چاہیے کہ تبلیغ کا فریضہ اپنے نفس کا تزکیہ کرتے ہوئے ادا کریں اور بانیٔ تنظیم مجلس خدام الاحمدیہ، حضرت مصلح موعودؓ کے ان اشعار سے ہمیشہ تحریک حاصل کرتے رہیں:

پھیلائیں گے صداقتِ اسلام کچھ بھی ہو

جائیں گے ہم جہاں بھی کہ جانا پڑے ہمیں

محمود کر کے چھوڑیں گے ہم حق کو آشکار

روئے زمیں کو خواہ ہلانا پڑے ہمیں

اللہ تعالیٰ ہمیں اس پیغام کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے دنیا تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

صدر مجلس خدام الاحمدیہ بھارت

Leave a Reply