ہے کتنا وسیع دیکھو تو دامانِ خلافت

از صدر مجلس خدام  الاحمدیہ بھارت (

اس وقت جماعت احمدیہ وہ واحد فرقہ ہے جس میں خلافت علیٰ منھاج النبوۃ کا آسمانی نظام آنحضورﷺ کی پیش گوئیوں کے مطابق قائم و دائم ہے۔مختلف جمیعتوں اور طاقتوں نے اس دور میں خلافت کی تحریکیں چلائیں لیکن و ہ سب ناکام رہیں اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ خلیفہ خدا خود بناتاہے ۔انسانی طاقت کااس کے قیام میں عمل دخل نہیں ہے ۔اور اس دور میں اللہ تعالیٰ نے خلافت علیٰ منھاج النبوۃ کا قیام حضرت مرز اغلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود وفات کے بعد۲۷مئی ۱۹۰۸ کو فرمایا۔جماعت احمدیہ وہ واحد جماعت ہے جس میں ایک عالمگیر  واجب الاطاعت امام ہے ۔اس لئے حدیث نبوی  ید اللہ مع الجماعۃ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت جماعت احمدیہ مسلمہ کے ساتھ ہے جماعت احمدیہ مسلمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے روحانی، علمی، قلبی اور ذہنی اتحاد قائم ہے جس کی واحد وجہ ہمارے درمیان ایک واجب الاطاعت خلیفہ کا موجود ہونا ہے۔یہ خدائی تائید اس جماعت  کو کئی لحاظ سے حاصل ہے بفضلہ  تعالیٰ احمدیہ مسلم جماعت خلافت کی برکت سے اخوّت کی  حسین لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔ اس عالمگیر اخوّت کا اظہار نہ صرف ہر ملک میں منعقد ہونے والے جلسہ ہائے سالانہ میں بلکہ جلسہ سالانہ یوکے میں بڑی شان سے نظر آتا ہے جس میں ہر قوم رنگ نسل اور زبان کے افراد بشاشت بھرے چہروں اور محبت بھرے جذبات کے ساتھ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔

خلافت عافیت کا حصار ہے

خلافت کی برکات میں ایک اہم برکت یہ ہے کہ اس کے افراد من حیث الجماعت امن میں زندگی گزارتے ہیں اور جب کبھی بھی خوف کے سائے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں افراد جماعت خلافت کے ڈھال کے پیچھے  امن و عافیت کے حصار میں آجاتے ہیں۔ جماعت احمدیہ کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ خلافت کے زیر سایہ خوف و خطر کا ہر دور امن و عافیت میں تبدیل ہوا۔حکومتوں کے منصوبے ناکام ہوئے اور حاسدوں اور منافقوں کی ریشہ دوانیاں نامراد ٹھہری ۔جماعت احمدیہ کا دنیا کے ۲۱۳ ممالک میں پھیلنا ،مساجد مشن مربیا ن کا سلسلہ ،قرآن کریم کا دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم ،جماعت کا دنیا میں ایک امن پسند جماعت کے طور پر مشہور ہونا اور پذیرائی ملنا اور ہر سال افضال الٰہیہ کی بارش جس کا تذکرہ حضور جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقعے پر کرتے ہیں سب خلافت کی برکات ہیں اور ان برکات سے ہم سب نے خلافت کی اطاعت کے نتیجہ میں وافر حصہ لیا ہے جو اس نظام آسمانی سے کٹ گئے انکے ہاتھ محرومی لگی ہے۔جیساکہ لاہوری فرقے کے ساتھ ہوا۔

ایک دردمند وجود:

خلافت کی بدولت ہمیں اللہ تعالٰی نے ایک دردمندامام عطافرمایاہے ۔وہ ہمارے لئے بالکل ویسے ہی اہم ہیں جیسے جسم کے لئے روح، وہ ہماری خاطر راتوں کو جاگ کر خدا کے حضور روتا ہے ۔

حضرت خلیفۃالمسیح کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسا پیار ا ورجود بخشا ہے جن کو ہماری فکر ہے اور ہماری ترقی و بہبود کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ہمارےا ور غیرو ں میں یہی فرق ہے کہ ہمارے درمیان ایک ہمارادرد رکھنے والا  وجود ہے دوسروں کے لئے ایساکوئی وجود نہیں ہے۔حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ للہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ

’’کونسادنیوی لیڈر ہے جوبیماروں کے لئے دعائیں بھی کرتاہو۔کو نسالیڈر ہے جو اپنی قوم کی بچیوں کے رشتوں کے لئے بے چین اور انکے لئے دعاکرتاہو۔کونسالیڈر ہے جس کو بچوں کی تعلیم کی فکر ہو۔۔۔۔دنیا کاکوئی ملک نہیں جہاں رات سونے سے پہلے چشم تصور میں مَیں نہ پہنچتاہوں اورا نکے لئے سوتے وقت بھی اور جاگتے وقت بھی دعا نہ ہویہ میں باتیں اس لئے نہیں بتا رہا کہ کوئی احسان ہے ۔یہ میرا فرض ہے اللہ تعالیٰ کرے کہ اس سے بڑھ کر میں فرض کو اداکرنے والابنوں ۔(خطبہ جمعہ فرمودہ ۶ جون ۲۰۱۴)

خلافت کی اطاعت میں ہی ترقیات کا راز مضمرہے:

 خلافت حقہ اسلامیہ کا ربانی سلسلہہم سے یہ تقاضا کرتاہے کہ ہم اس عظیم الشان نعمت خداوندی  کی قدر کریں اسکی اہمیت و افادیت کو اپنے قول و عمل سے اجاگر کرتے رہیں ۔اطاعت خلافت میں یہ بات شامل ہے کہ جب خلیفہ کے منہ سے کو ئی بات نکلے تو ہم سمعنا و اطعنا کہتے ہوئے اس پر لبیک کہنے والے ہوں۔خلیفۃالمسیح کی کامل اطاعت وفرمانبرداری میں ہی ہماری تمام ترقیات کا راز مضمر ہے۔ایک خطبہ جمعہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

’’ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہیے کہخلافت کے لیے دعائیں کریں تاکہ خلافت کی برکات آپ میں ہمیشہ قائم رہیںاپنے اند ر خاص تبدیلیاں پیدا کریں۔ پہلے سے بڑھ کر ایمان و اخلاص میں ترقی کریںاب احمدیت کا علمبردار وہی ہے جو نیک اعمال کرنے والا ہے اور خلافت سے چمٹا رہنے والا ہے۔‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ 27؍مئی2005ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل10؍جون2005ءصفحہ8)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ساری دنیا کو خلافت احمدیہ کے سایہ تلے جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ خلافت نہ مشرقی ہے نہ مغربی بلکہ یہ عالمگیر ہے ۔اور ہر ایک کی فلاح و بہبود کے لئے آواز اٹھاتی ہے ۔

ہر ایک کو اس سائے میں ملتی ہیں پناہیں

ہے کتنا وسیع  دیکھو تو دامان خلافت

واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العٰلمین

Leave a Reply